????? ??? ??? ????? ?? ???? ?? ??? ?? ?? ????? ????? ?? ??? ????? ???? ???? ???? ????? ????? ???? ????? ?? ???? ??: ????? ??? ????

  • Current Samachar
  • July 26, 2018
  • Comments Off on ????? ??? ??? ????? ?? ???? ?? ??? ?? ?? ????? ????? ?? ??? ????? ???? ???? ???? ????? ????? ???? ????? ?? ???? ??: ????? ??? ????
????? ??? ??? ????? ?? ???? ?? ??? ?? ?? ????? ????? ?? ??? ????? ???? ???? ???? ????? ????? ???? ????? ?? ???? ??: ????? ??? ????

?????? ????? ?? ???????? ?? ?? ?? ???? ???????? ?? ??? ????? ??? ?????? ???? ???? ????? ???????? ? ??? ? ?????? ??? ???? ????? ??? ????? ????? ??? ??????: ?????? ????

 

نئیدہلی۔26؍جولائی۔ہاؤزنگ اور شہری اُمور کے وزیر مملکت (آزادانہ  چارج) جناب ہردیپ ایس پوری نے کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس کے زیر اہتمام منعقدہ ’’تاجروں کا قومی اجتماع ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارت کسی بھی معیشت کی خصوصاً بھارت جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی سی  حیثیت رکھتی ہے۔ آج بھارت 50 فیصد کے بیرونی شعبے کے ساتھ 2.6 کھرب کی معیشت ہے۔ بھارت کی مجموعی گھریلو پیداوار کو یقینی بنانے کیلئے بین ریاستی تجارت بھی یکساں طور پر اہمیت کی حامل ہے۔ گزشتہ سہ ماہی کے دوران بھارت نے 7.7 فیصد کی شرح سے نمو حاصل کی ہے اور 2025 تک بھارت کی معیشت 5 کھرب امریکی ڈالر کے نشان سے تجاوز کرجائیگی اور اس وقت تک کہ جب ہم 2030 کا ترقیاتی ایجنڈا مکمل کریں گے  ، بھارت 10 کھرب امریکی ڈالر سے زائد مجموعی گھریلو پیداوار کے ساتھ دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گی۔

بڑی تعداد میں موجود تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے جناب پوری نے خیال ظاہر کیا کہ بھارت کی معیشت جیسے جیسے نمو پذیر ہوگی، اس کی فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اگر اسی بات کو دوسرے زاویے سے دیکھیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اقتصادی نمو بھارتی شہریوں کی خرچ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور اس کے توسط سے تجارتی برادری کو تقویت

حاصل ہوگی۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران حکومت اور تجارتی برادری نے سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے سیلنگ کے حکمنامے کے پس منظر میں مسائل کا حل نکالنے کیلئے وسیع پیمانے پر گفت وشنید کی ہے۔ قومی راجدھانی کے ماسٹر پلان میں ترمیم اور بعدازاں اس کے نفاذ کے لئے آگے کی کارروائی درکار ہے۔ حکومت ہی پالیسی سازی کیلئے ذمہ دار ہے۔

شہرکاری  کے سلسلے میں وزیر موصوف نے خیال ظاہر کیا کہ جس رفتار سے بھارت میں شہر کاری کو فروغ حاصل ہورہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ملک میں آبادی کا نقل مکانی بھی عمل میں آرہا ہے تو کوئی بڑا سے بڑا صاحب بصیرت منصوبہ ساز بھی اس سلسلے میں کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کرسکتا۔ 1951 میں بھارت کی اولین مردم شماری میں یہ بات نمایاں کی گئی تھی کہ بھارت کی 17 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے۔ اس وقت آبادی محض 360 ملین سے تھوڑی سی زائد تھی۔ 2011 میں کرائی گئی مردم شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ 30 فیصد بھارتی شہری علاقوں میں سکونت پذیر ہیں اور اب یہ آبادی 1.25 بلین تک پہنچ گئی ہے۔ تخمینوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 2030 تک 40 فیصد کی بھارتی آبادی یا 600 ملین بھارتی شہری شہروں میں رہنے لگیں گے۔

تجارتی برادری کے موقف پر توجہ مرکوز  کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ تجارتی برادری نے پالیسی سازوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضوں کے خلاف ہیں اور غیرقانونی سرگرمیوں کے سدباب کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے خواہاں ہیں۔ متعلقہ ایجنسیاں یعنی لیفٹیننٹ گورنر، ایل اینڈ ڈی او  اور ڈی ڈی اے  حالیہ ماسٹر پلان ترامیم کے سلسلے میں درکار کسی بھی طرح کی وضاحت فراہم کرنے کیلئے کمربستہ ہیں۔

شہری حکام کے ذریعے چلائی گئی سیلنگ مہم کے سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ازخود ماسٹر پلان میں ترمیم کی ہے تاکہ شہرکاری کے بڑھتے ہوئے مطالبات ، سرگرمیوں کی تکمیل کی جاسکے اور قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔ ایسی کوئی بھی چیز رد کردی جائے گی۔ اب تک شمالی دلّی میونسپل کارپوریشن، جنوبی دلّی میونسپل کارپوریشن اور مشرقی دلّی میونسپل کارپوریشن نے بالترتیب 2655 ، 1995، 1043  ایسی جائیدادوں کو سیل کیا ہے جو قانون کی خلاف ورزی  کی مرتکب پائی گئی تھیں۔  ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین کی صدارت میں تشکیل دی گئی خصوصی فورس نے  سڑکوں پر کیے گئے 1,200 کلو میٹر  سے زائد کے ناجائز قبضو ں کو ہٹادیا ہے اور 1,99,382 مربع میٹر مستقل ڈھانچوں  کو بھی ہٹایا گیا ہے۔

حکومت کی عہد بندگی یہ ہے کہ قومی  راجدھانی کو ایک نمونہ شہر بنایا جائے جہاں تاجر، باشندگان، بچے، دویانگ اور معمر افراد آسان زندگی بسر کرسکیں۔ کنیکٹیویٹی سے لیکر ہاؤزنگ تک اور سبزہ زاروں سے لیکر بھیڑ بھاڑ اور ناجائز قبضوں والے حصوں کی صفائی کا کام مکمل ہونے پر یہ  پورے ملک کیلئے ایک نمونہ فراہم کریگا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

26-07-2018

U-3837

Let’s block ads! (Why?)