????? ???? ?? ??? ?? ???? ???? ??????? ?? ??? ?????? ?? ??????

نئی دہلی،  3 اگست 2018،    زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے وزیر مملکت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے آج بتایا کہ ریاستی حکومت، قدرتی آفات کے تناظر میں ضروری راحتی اقدامات فراہم کرنے کے لئے بنیادی طور پر ذمہ دار ہے۔ راحتی اقدامات کے لئے فنڈ، ریاستی حکومت کے  پاس اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈی آرایف) کی شکل میں دستیاب ہیں۔ا یس  ڈی آر ایف سے زائداضافی مالی امداد سنگین نوعیت کی قدرتی آفات کے لئے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ  (این ڈی آر ایف) سے دی جاتی ہے اور اس امداد کی منظوری ثابت شدہ طریقے کار  کے مطابق ریاستی حکومت سے موصول میمورنڈم کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔

زراعت، امداد باہمی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کا محکمہ، ان کسانوں کو این ڈی آر ایف کے تحت راحتی امداد دینے کا ذمہ دار ہے، جن کی فصلیں خشک سالی ، ژالہ باری، جراثیم کے حملے  اور سرد لہر کی وجہ سے  تباہ ہوگئی ہیں۔  درج بالا قدرتی آفات سے متاثر ریاستوں کے لئے سال 16۔2015 سے 18۔2017 کے دوران این ڈی آر ایف سے 22972.30 کروڑ روپے کی رقم منظوری کی گئی ہے۔

حکومت ہند نے راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (آر کے وی وائی)، پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے تحت خشک سالی کو کم کرنے اور کسانوں کی دیگر ضروریات سے نمٹنے کے لئے متعدد اسکیمیں اور پروگرام شروع کئے ہیں۔ علاوہ ازیں کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے حکومت نے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (بی  ایم ایف بی وائی)  اور نیشنل ایگریکلچر مارکٹ اسکیم (ای۔ این اے ایم) وغیرہ کا نفاذ کیا ہے۔  ریاستوں کو آر کے وی وائی کے تحت رعایت دی گئی ہے کہ وہ کسانوں کے لئے خطہ خاص سے متعلق اقدامات کے لئے منصوبہ بندی کریں۔

زراعت ایک ریاستی موضوع ہے۔ ریاستی حکومتیں، متاثرہ کسانوں میں فنڈ  کی تقسیم کی  ذمہ دار ہیں۔تمام نجی استفادہ رخی امداد لازمی طور پر مستفیض ہونے والے شخص کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعہ تقسیم کی جاتی ہے۔متعدد امور کے تحت مستفدین کو راحت پہنچانے میں تقسیم اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لئے ریاستی حکومتوں کو ان انفرادی مستفدین کی ایک مستحکم فہرست تیار کرنی ہوگی جن کے بینک کھاتوں میں فنڈ منتقل کیا گیا ہے۔اس طرح جو فہرست تیار کی جائے اسے تصدیقی عمل اور سوشل آڈٹ کے مقصد کے لئے ریاستی، ضلعی اور بلاک سطحوں کے ساتھ ساتھ اپنی ویب سائٹ پر  ڈال دینا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  م ن۔ن ا۔ن ا۔

U- 4050

Let’s block ads! (Why?)